Breaking Posts

6/trending/recent
Type Here to Get Search Results !

ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا مگر نہ زمیں کانپی اور نہ آسماں رویا اور نہ ہی وقت کے حکمرانوں کو شرم آئی اور نہ حیا

 ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا مگر نہ زمیں کانپی اور نہ آسماں رویا اور نہ ہی وقت کے حکمرانوں کو شرم آئی اور نہ حیا

ایک اور خاندان نے حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا مگر نہ زمیں کانپی اور نہ آسماں رویا اور نہ ہی وقت کے حکمرانوں کو شرم آئی اور نہ حیا حاصل پور: میاں اور بیوی نے مل کر  پہلے دونوں بچوں کو زہر دیا انکو مار کر خود بھی زہر پی لیا. ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خاندان کرائے کےمکان میں رہتا تھا۔ میاں بیوی کام نہ ملنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے مکان کا کرایہ نہیں دے سکے تھے۔ مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا کہہ رکھا تھا۔ اوپر سے ماں جیسی ریاست کے آلہ کاروں نے 17500 روپے بجلی کا بل واپڈا والوں نے بھیج دیا۔ واپڈا اہلکار میٹر اتار کر لے گئے۔ بچوں نے دودھ لانے کی ضد کی تو حالات کے مارے میاں بیوی نے بچوں سمیت اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرلیا۔ حکمران ہیں کہ ہر لمحے اپنے آپ کو صادق و امین کہنے کے ساتھ ساتھ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ جبکہ ریاست کے شہری آئے روز خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ پھر بھی ریاست مدینہ کے نام لیوا ان حکمرانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لوگوں کی خودکشیوں کا حوالہ دے کر سوال پوچھنے والے صحافیوں کو جواب ملتا ہے کہ "میں کیا کروں" یہ ہیں وہ حوص کے پجاری حکمران جو لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اور محلاتی سازشیں کر کے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرنے کا دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔ لوگوں کا خون چوس کر انہیں خودکشیاں کرنے کیلئے بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔


حاصل پور: میاں اور بیوی نے مل کر  پہلے دونوں بچوں کو زہر دیا انکو مار کر خود بھی

زہر پی لیا. ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خاندان کرائے کےمکان میں رہتا تھا۔ میاں بیوی کام نہ ملنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے مکان کا کرایہ نہیں دے سکے تھے۔ مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا کہہ رکھا تھا۔ اوپر سے ماں جیسی ریاست کے آلہ کاروں نے 17500 روپے بجلی کا بل واپڈا والوں نے بھیج دیا۔ واپڈا اہلکار میٹر اتار کر لے گئے۔ بچوں نے دودھ لانے کی ضد کی تو حالات کے مارے میاں بیوی نے بچوں سمیت اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرلیا۔

حکمران ہیں کہ ہر لمحے اپنے آپ کو صادق و امین کہنے کے ساتھ ساتھ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ جبکہ ریاست کے شہری آئے روز خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ پھر بھی ریاست مدینہ کے نام لیوا ان حکمرانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لوگوں کی خودکشیوں کا حوالہ دے کر سوال پوچھنے والے صحافیوں کو جواب ملتا ہے کہ "میں کیا کروں"

یہ ہیں وہ حوص کے پجاری حکمران جو لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اور محلاتی سازشیں کر کے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرنے کا دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔ لوگوں کا خون چوس کر انہیں خودکشیاں کرنے کیلئے بےیارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments