Breaking Posts

6/trending/recent
Type Here to Get Search Results !

ملک میں مہنگائی،غربت اور بیروزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔حکمرانوں نے نااہلی کے ریکارڈز توڑ دیئے۔قوم اجتماعی توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں۔معیشت اور عدالتوں میں اسلام کا قانون نافذنہیں۔ پاکستان 33ہزار ارب سود ادا کررہا ہے۔سودی قسطوں کی ادائیگی نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے

 ملک میں مہنگائی،غربت اور بیروزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔حکمرانوں نے نااہلی کے ریکارڈز توڑ دیئے۔قوم اجتماعی توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں۔معیشت اور عدالتوں میں اسلام کا قانون نافذنہیں۔ پاکستان 33ہزار ارب سود ادا کررہا ہے۔سودی قسطوں کی ادائیگی نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے

ملک میں مہنگائی،غربت اور بیروزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔حکمرانوں نے نااہلی کے ریکارڈز توڑ دیئے۔قوم اجتماعی توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں۔معیشت اور عدالتوں میں اسلام کا قانون نافذنہیں۔ پاکستان 33ہزار ارب سود ادا کررہا ہے۔سودی قسطوں کی ادائیگی نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے


۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ تیمرگرہ میں عظیم الشان سات روزہ فہم القرآن کلاس کے آخری روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر کلاس کے مدرس معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل نے بھی خطاب کیا جبکہ اختتامی دعا میں ہزاروں مردوخواتین نے شرکت کی۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ حکومت پاکستان عالمی قرضوں پر33ہزار ارب روپے سود ادا کررہے ہیں جبکہ امسال 3.3ٹریلین سود ادا کیا گیا جس سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا ہے انھوں نے کہاکہ سودی نظام کی وجہ سے ملک میں مہنگائی،غربت اور بیروزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں جبکہ حکمرانوں کی کرتوت کی وجہ سے ملکی نظام اللہ سے عملا بغاوت کے راستے پر گامزن ہیں انھوں نے کہاکہ ملک میں معیشت اور عدالتوں میں مغرب کا قانون نافذ جبکہ اسلامی قانون زندہ درگور ہے جب تک ہم اللہ سے اجتماعی توبہ نہیں کرینگے تب تک حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے انھوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کررہی ہے خیبرپختونخوا میں فہم القرآن کلاسسز کے کامیاب انعقاد کے بعد اب اس کا دائرہ وسیع کرکے پورے ملک میں پھیلایا جارہا ہے پنجاب،اندرون سندھ اور بلوچستان میں جلدفہم القرآن کلاسسز کا انعقاد کرکے عوام کو اللہ کے ساتھ جوڑیں گے انھوں نے کہاکہ غربت کی وجہ سے خودکشیوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔

Post a Comment

0 Comments