Breaking Posts

6/trending/recent
Type Here to Get Search Results !

کیے تھےجو وعدے تو نے غضب ڈاکٹر حنیف لغاری یونین کونسل لکھانی

 

کیے تھےجو وعدے تو نے غضب ڈاکٹر حنیف لغاری یونین کونسل لکھانی

کیے تھےجو وعدے تو نے غضب     ڈاکٹر حنیف لغاری یونین کونسل لکھانی


تبدیلی پاکستانی عوام کے منہ پر ہر مہینے ایسا تھپڑ رسید کر رہی ہے کہ ہوش نہ آنے پائے تین سالوں سے عوام پرتھپڑوں..مکوں اور لاتوں کی بارش کھلے دل سے کی جارہی ہے ..جنکی عمر لمبی ھے انکی قسمت میں ابھی دوسال باقی ہیں..وزرا مشیر اور حکموتی اہلکار ان تھپڑوں کے فوائد بکثرت ٹی وی پر آکر گنوا رہے ہیں جنکو فوائد کا علم نہی وہ اس نیک کام کا ذمہ دار زرداری اور نواز شریف کو قرار دے رہے ہیں..کرپشن میں لت پت تبدیلی پاکستانی عوام کو خوب لتاڑ رہی ہے..لیکن ہم جیسے پاگل ابھی تک عیسی خیلوی کے گانے پر سوچتے رہتے ہیں کہ اچھے دن آئیںگے..امید ھے کہ توبہ سے گناہ معاف ھو جاتے ہیں میں تو رب سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلبگار ھوں..نوے فیصد لوگ بے بسی کی تصویر بنے پھرتے ہیں نہ کچھ مزید کہنے کے قابل بچے ہیں نہ کچھ مزید سہنے کی وقعت رکھتے ہیں..ترقی تو درکنار جو کچھ عوام کے پاس تھا وہ بھی چھن چکا..خوشی تھی نئے سکول بنیں گے..سڑکیں بنیں گی ہسپتال بنیں گے وسائل کا رخ عام عوام کی طرف موڑا جائے گا. عوام کومیرٹ پر نوکریاں ملیں گی...جی سب کچھ ھو چکا بچ گیا روزی روٹی کا بہانہ تو وہ بھی ختم شد..آٹا چینی..چائے پٹرول..کھاد..بجلی وغیرہ سب کچھ منتخب نمائندوں کے کھاتوں اور اکاؤنٹس میں آہستہ آہستہ منتقل ھو رہا ھے... تبدیلی نے بیماروں کو بھی نہ بخشا دواؤں کی قیمتوں نے انکو بھی قبر کی راہ دکھانی شروع کر دی جنکو ابھی بھی جینے کی آس تھی..ایک چیز ابھی بھی سستی ھے شکر کرو اس پر ابھی تک ٹیکس نہی لگا اور وہ ہے قبر کی جگہ ورنہ اگلے دو سالوں میں شائد اس پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے..کیونکہ آئی ایم کا قرض جو اتارنا ھے...پتا نہی قرض کی یہ رقم اور وسائل سے مالا مال اس ملک کی آمدن یہ بندر مل کر کیسے بانٹتے ہیں..مجھے تو اپنے علاقے کے عوامی نمائندوں پر حیرت ہے کتنی ڈھٹائی سے اقتدار سے چمٹے ھوئے ہیں..تین سال گزر گئے عوام پانی بجلی سڑک سکول ھسپتال اور کٰی بنیادی سہولتوں سے درجنوں دیہات خاص کر پی پی دو سو پچاسی محروم ہے. ایم پی اے. ایم این اے ..سی ایم ..پی ایم... صدر پاکستان اور وزرا کی فوج سب ایک ہی جماعت سے ھونے کے باوجود عوام کو ذلالت میں دیکھ کر خاموش تماشائی ہیں..اپوزیشن نے بھی فیصلہ عوام پر چھوڑ رکھا ھے..میرے خیال میں ہم عوام کے اعمال کا نتیجہ ہے جو ھم بھگت رہے ہیں تبدیلی نے جتنا منہ کالا تحصیل تونسہ میں کر رکھا ھے اسکی مثال پچھلے ستر سالوں میں نہی ملتی..مگر جب تک لالچ زندہ ھے ٹھگ بھوکے نہی مرتے. عوام زندہ رہی تو اگلے الیکشن میں ٹھگوں سے حساب لے گی
..پاکستان زندہ باد
ڈاکٹر حنیف لغاری یونین کونسل لکھانی تحصیل تونسہ شریف


Post a Comment

0 Comments